تشنہ لب خاک بہ سر آبلہ پا بیٹھا ہے
خشک دریا مِری دہلیز پر آ بیٹھا ہے
کل بھی عشاق کے زمرے میں مِرا نام آیا
اس جنم میں بھی میرے سر پہ ہما بیٹھا ہے
دل کشادہ بھی کیا اس میں چراغاں بھی کیا
اور ہمزاد مِرا دشت میں جا بیٹھا ہے
دستِ فطرت کو حفاظت کی ضرورت ہو گی
شوقِ تخلیق میں انسان بنا بیٹھا ہے
آئینہ دیکھا ہے آکاش بڑی دیر کے بعد
میں بھی حیراں ہوں میرے سامنے کیا بیٹھا ہے
امداد آکاش
No comments:
Post a Comment