میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا
تجھ کو بے تاب نہیں دیکھا تھا
اس نے سیماب کہا تھا مجھ کو
میں نے سیماب نہیں دیکھا تھا
ہجر کا باب ہی کافی تھا ہمیں
وصل کا باب نہیں دیکھا تھا
چاند میں تُو نظر آیا تھا مجھے
میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا
وہ جو نایاب ہوا جاتا ہے
اس کو کمیاب نہیں دیکھا تھا
ایک مچھلی ہی نظر آئی مجھے
میں نے تالاب نہیں دیکھا تھا
عبدالرحمان مومن
No comments:
Post a Comment