Friday, 11 March 2022

میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا

میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا

تجھ کو بے تاب نہیں دیکھا تھا

اس نے سیماب کہا تھا مجھ کو

میں نے سیماب نہیں دیکھا تھا

ہجر کا باب ہی کافی تھا ہمیں

وصل کا باب نہیں دیکھا تھا

چاند میں تُو نظر آیا تھا مجھے

 میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا

وہ جو نایاب ہوا جاتا ہے

اس کو کمیاب نہیں دیکھا تھا

ایک مچھلی ہی نظر آئی مجھے

میں نے تالاب نہیں دیکھا تھا


عبدالرحمان مومن

No comments:

Post a Comment