نہ تو ہجر ہی میں سکون ہے، نہ قرار پایا وصال میں
یہ بڑی عجیب ہے کیفیت، ہے کمی ہی کوئی غزال میں
وہ جو دور ہو تو رفیق ہے، وہ قریب ہو تو دقیق ہے
میں کروں تو ایسے میں کیا کروں، یہی کشمکش ہے خیال میں
وہ حسیں، جمیل ہے خوبرو، میں ہوں عام سی لیے رنگ و بُو
وہ ہے آسماں، تُو زمیں ہے، وہ عروج ہے، تُو زوال میں
تیری جستجو میں نہ کچھ ملا، مجھے شرق و غرب پھرا دیا
مجھے تُو کہیں بھی نہ مل سکا، نہ جنوب میں نہ شمال میں
وہ جواز تیری نماز کا،۔ وہ خراج راز و نیاز کا
وہ جو کل ہے حسن مجاز کا، اسے ڈھونڈ حسنِ خیال میں
نہ قریب ہے نہ وہ دور ہے، نہ وہ برق ہے، نہ وہ طور ہے
وہ اگرچہ نور ہی نور ہے،۔ وہ ملے گا قلبِ غزال میں
غزالہ تبسم
No comments:
Post a Comment