یہ دل مِرا بجھا بجھا سا لگ رہا ہے آج کل
یوں آسماں جلا ہوا سا لگ رہا ہے آج کل
جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا سایہ سا کبھی
نہ جانے کیوں جدا جدا سا لگ رہا ہے آج کل
کروں بیاں یوں کیسے حال اپنی بستی کا یہاں
کہ ہر کوئی تھکا تھکا سا لگ رہا ہے آج کل
جو زندگی کا کارواں تھا کل یہاں رواں دواں
وہ کارواں رکا رکا سا لگ رہا ہے آج کل
کبھی جسےانا پہ اپنی ناز تھا بڑا یہاں
وہ سر بھی یوں جھکا جھکا سا لگ رہا ہے آج کل
یوں زندگی گزر رہی ہے اک عذاب کی طرح
یہ جینا بھی کوئی سزا سا لگ رہا ہے آج کل
چمن میں یوں گلابِ سارے بکھرے ہیں برگ برگ
مِرا یہ دل ڈرا ڈرا سا لگ رہا ہے آج کل
بہار بھی خزاں سی لگ رہی ہے اشہر آج کیوں
چراغِ دل بجھا بجھا سا لگ رہا ہے آج کل
اشہر اشرف
No comments:
Post a Comment