اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی
دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی
اک آنچ کی تھی پھر بھی کسر تیکھے خطوں میں
تصویر بہت خوب تھی، شہکار نہیں تھی
منظر ہے بڑا ہوشربا، دل کو لگا تھا
پر آنکھ مِری دل کی طرفدار نہیں تھی
تعبیر کہاں تھی، وہاں کچھ خواب اُگے تھے
وہ نیند کی وادی تھی جو بیدار نہیں تھی
دھڑکا تھا کوئی، جس نے قدم روک لیے تھے
راہوں میں اگرچہ کوئی دیوار نہیں تھی
ٹوٹا بھی وہاں قہر تو سب شہر پہ ٹوٹا
اب بستی کی بستی تو گنہگار نہیں تھی
جلدی نہ تھی منزل پہ پہنچنے کی کسی کو
چلتے تھے سبھی، تیزی رفتار نہیں تھی
جس نے خلش احساس کو بھی کر دیا زخمی
وہ طنز کی اک کاٹ تھی، تلوار نہیں تھی
رؤف خلش
No comments:
Post a Comment