Wednesday, 3 August 2022

زبان دل کی حکایت بیان تک پہنچی

 زبانِ دل کی حکایت بیان تک پہنچی

زمیں سے اُڑتی ہوئی آسمان تک پہنچی

سراغ سامنے آئے گا دُشمنِ جاں کا

جو میرے پاؤں کی آہٹ مچان تک پہنچی

وہ ایک بات جو صدیوں کی گرد میں تھی نہاں

سوال بن کے مِرے امتحان تک پہنچی

لرز اٹھے تھے دریچے حسین خوابوں کے

کسی کی چیخ جو میرے مکان تک پہنچی

سفر کا ذوق جو بیدار ہو گیا ہے نوید

ہماری آبلہ پائی چٹان تک پہنچی


نوید مرزا

No comments:

Post a Comment