Monday, 19 April 2021

سیہ کاغذوں پر پرندوں کی قبریں بناتے ہوئے

 منقسم سانسوں کی بِپتا​


سیہ کاغذوں پر پرندوں کی قبریں بناتے ہوئے

تم نے دیکھا تو ہو گا

کہ سب اُتروں، دَکھنوں، پُوربوں، پَچھموں پھرنے والی ہوا

وصل کے گیت گاتے ہوئے

سب پرندوں سے اٹھکیلیاں کرنے والی ہوا

خوشبوؤں کی کہانی سناتی مہکتی، لہکتی، مچلتی ہوا

مجرموں کی طرح اک کٹہرے میں سر کو جھُکائے ہوئے

منہ بسورے کھڑی ہے

ابھی جُرم الزام کی حد میں ہے

اور حد لگ گئی ہے

سوالی نگاہیں لیے سب پرندے تڑپنے لگے

اور کہنے لگے؛

جانے کس کی بھڑکتی ہوئی تند خواہش نے

کیسے یکا یک

ہوا سے ہماری ہزاروں برس کی رفاقت کو توڑا

کہ اب نیند کے فرش پر

وصل کا خواب چلنے سے قاصر ہے

کرچوں کے دُکھ جاگتے ہیں

(سوچ کے ہر ورق پر جدائی کی لکھی ہوئی داستاں تو سبھی جانتے ہیں)

نصابوں میں لکھا گیا ہے؛

ہوا سازشی ہے

پرندوں سے اپنی رفاقت کو دو لخت کرنا اسی کا کِیا ہے

مگر یہ ہوا مانتی ہی نہیں ہے


ارشد معراج

No comments:

Post a Comment