یہ علالت، یہ بے کسی توبہ
ہائے، میری یہ زندگی توبہ
اک محبت سے دُور رہ جاتے
ورنہ کیا تھی ہمیں کمی توبہ
لوگ زخموں پہ وار کرتے ہیں
دیکھی اتنی بھی بے حسی توبہ
کرب سے واسطہ رہا اپنا
ہم نے دیکھی کہاں خوشی توبہ
بانجھ رہ گئیں حسرتیں دل کی
بے دلوں سے یہ دل لگی توبہ
ہم سے کہتے ہیں زندگی جی لو
ہائے اتنی ستم گری توبہ
اس کے در پہ سوالی ہیں الفت
ان سے کیا ہم سری توبہ
منظور احمد الفت
No comments:
Post a Comment