شبِ وصل تو بعید تھی، دن بھی گزر گیا
مجھے دن سے کچھ امید تھی دن بھی گزر گیا
کمائی تھیں سرخ آنکھیں کچھ اشکوں کے بدلے رات
یہ دن آخری رسید تھی، دن بھی گزر گیا
حرارت ہے ربط میں نہ ہی رُت میں ہے اعتدال
چلو دھوپ کچھ مفید تھی، دن بھی گزر گیا
یہ راتیں تو یوں بھی نم ہیں سیاہی بھی ان میں ہے
ہمیں دن کی تھوڑی دید تھی دن بھی گزر گیا
شبِ عہد تو گزر گئی تھوڑا سا انتظار
نئی شام کی نوید تھی، دن بھی گزر گیا
فاطمہ نوشین
No comments:
Post a Comment