Thursday, 22 April 2021

فرصت ہی نہیں ملتی ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں

 احساس کی منڈیر پر رکھی نظم


فرصت ہی نہیں ملتی

ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں

یادوں کی کوئی کھڑکی

کھولیں تو ہوا مہکے

سینے کا پرندہ بھی نظموں میں کہیں چہکے

اور خواب کچھ ایسے ہیں

ٹکتے ہی نہیں پل بھر

ٹک جائیں تو نظمیں ہوں

وہ صبح نہیں آئی

جب شوق کنارے پر

ہم نور سے جل تھل ہوں

 جو عمر ہتھیلی میں ان جبر لکیروں سے

آگے کہیں لے جائے

دفتر کی خباثت سے فرصت ہمیں مل جائے


ارشد معراج

No comments:

Post a Comment