Sunday, 5 December 2021

راہوں میں تری طور کے آثار ملے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


راہوں میں تِری طُور کے آثار ملے ہیں

ذروں کے جگر مطلعِ انوار ملے ہیں

تاروں میں تِرے حسنِ تبسم کی ضیا ہے

پھولوں کی مہک میں تِرے آثار ملے ہیں

معراج کی شب سرحدِ امکاں سے بھی آگے

💚نقشِ قدمِ احمدؐ مختارﷺ ملے ہیں💚

جو ذات الٰہی کی تجلی سے نہ جھپکے

ہاں آپﷺ کو وہ دیدۂ بیدار ملے ہیں

جو دل کہ تیرے پیار کی لذت سے ہیں محروم

وہ بھی تِریؐ رحمت کے خریدار ملے ہیں

جو لوگ ہوئے تیری غلامی سے مشرف

وہ عظمتِ انسان کا معیار ملے ہیں

سَردار بھی دیکھیں ہیں، سرِ دار بھی دیکھے

ہر حال میں ساتھی تِرےؐ سرشار ملے ہیں

ہے ناز ہمیں اپنے مقدر پہ، نہ کیوں ہو

سرکارؐ ملے ہیں، ہمیں سرکارؐ ملے ہیں

جو نعت پیمبر کی حلاوت کے امیں ہیں

اے سرو مجھے وہ لبِ گفتار ملے ہیں


سرو سہارنپوری

No comments:

Post a Comment