Sunday, 5 December 2021

مقدر کو مرے بخشی گئی رحمت کی تابانی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مقدر کو مِرے بخشی گئی رحمت کی تابانی

مِرے حصے میں آئی ہے محمدﷺ کی ثنا خوانی

محبت سرورِ کونینﷺ کی جس دل کا حاصل ہو

اُسے ہو گی نہ روزِ حشر کوئی بھی پریشانی

زمانہ تا ابد جُھکتا رہے کا ان کے قدموں میں

جنہیں حاصل ہوئی ہے والئِ بطحا کی دربانی

عرب کی عظمتیں اللہ اکبر آپؐ کے دم سے

ہوئی صحرا نشینوں کے مقدر میں جہانبانی

نبیؐ کو نور کہنا تو اک ادنیٰ سی عقیدت ہے

جہاں ذکرِ محمدﷺ ہو وہ ساری بزم نورانی

کبھی تو کہہ کے مستانہ ظہوری کو بلائیں گے

کبھی تو کام آ جائے گی میری چاک دامانی​


محمد علی ظہوری

No comments:

Post a Comment