تیری "خطا" نہیں جو تُو "غصے" میں آ گیا
پیسے کا زور تھا تیرے "لہجے" میں آ گیا
سِکہ اچھال کے تیرے پاس میں کیا بچا
تیرا غرور تو میرے "کاسے" میں آ گیا
یوں تو بہت اداس تھا وہ مجھ سے روٹھ کر
دونوں "قبیلے" جنگ کو "تیار" تھے کہ بس
پھر یوں ہوا کے وہ میرے خیمے میں آ گیا
اس کو تھا زور مجھ سے بچھڑ کر رہے گا خوش
دو "روز" میں "خوشامدی" لہجے میں آ گیا
محشر آفریدی
No comments:
Post a Comment