غم کی دولت مفت لٹا دوں، بالکل نہیں
اشکوں میں یہ درد بہا دوں، بالکل نہیں
تُو نے تو "اوقات" دکھا دی ہے اپنی
میں اپنا "معیار" گرا دوں، بالکل نہیں
ایک نجومی سب کو"خواب" دکھاتا ہے
میرے اندر اک "خموشی" چیختی ہے
تو کیا میں بھی شور مچا دوں بالکل نہیں
محشر آفریدی
No comments:
Post a Comment