Thursday, 14 October 2021

سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی

 سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی

افلاک سے آتی ہے صدا اور طرح کی

ہے زیست اگر جرم تو اے منصفِ عالم

جرم اور طرح کا ہے سزا اور طرح کی

اس دل میں ہے مفہومِ کرم اور طرح کا

اس دل میں ہے تفہیمِ وفا اور طرح کی

پھولوں کا تبسم بھی وہ پہلا سا نہیں ہے

گلشن میں بھی چلتی ہے ہوا اور طرح کی

دیتے ہیں فقیروں کو سزا آج بھی کیفی

لوگ اور طرح سے تو خدا اور طرح کی


اقبال کیفی

No comments:

Post a Comment