Friday, 11 June 2021

بے کسی پر ظلم لا محدود ہے

 بے کسی پر ظلم لا محدود ہے

مطلعِ انصاف ابر آلود ہے

وقت کی قیمت ادا کرنے کے بعد

عہد کا فرعون پھر مسجود ہے

ہر طرف زر کی پرستش ہے یہاں

سنتے آئے تھے خدا معبود ہے

چار سُو ہے آتش و آہن کا کھیل

اور خلا میں شعلہ و بارود ہے

تابشِ علم و ہنر ہے بے ثمر

کاوشِ حسنِ عمل بے سود ہے

امن کیفی ہو نہیں سکتا کبھی

جب تلک ظلم و ستم موجود ہے


اقبال کیفی

No comments:

Post a Comment