Friday, 11 June 2021

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں

 ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں 

خود بخود راہ کے آثار بدل جاتے ہیں 

ہم تو ان لوگوں میں شامل ہیں ہمارا کیا ہے 

جو امیدوں کے سہارے ہی بہل جاتے ہیں 

میری آنکھوں میں تِرے ہجر کے آنسو ہیں جمے 

وہ مِرے جذبوں کی حدت سے پگھل جاتے ہیں 

صبح صادق کی طرح اجلے ہیں جذبے ان کے 

جو برے وقت میں گر کے بھی سنبھل جاتے ہیں 

ایسا انسان کہ جس کا کوئی غم خوار نہ ہو 

ایسے انسان کو حالات نگل جاتے ہیں 

میری آنکھوں سے بھلا خشک ہوں آنسو کیسے 

کیا کبھی چھوڑ کے پانی کو کنول جاتے ہیں


بینا گوئندی

No comments:

Post a Comment