Friday, 11 June 2021

یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

 یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

چند دن کی بات ہے پھر لوگ ہم سے بھی کہاں

تم کو آنا تھا نہ آئے وقت لیکن کٹ گیا

مضمحل ہوتے ہو کیوں ہم رات روئے بھی کہاں

پیڑ یہ سوکھے ہوئے کچھ یہ زمیں تپتی ہوئی

چلتے چلتے آج ٹھہرے ہم تو ٹھہرے بھی کہاں

آج تو وہ دیر تک بیٹھے رہے خاموش سے

رفتہ رفتہ بن کہے حالات پہنچے بھی کہاں

چند یادیں چند آنسو چند شکوے اور عمر

عشق تو کیا تھا مگر اب یہ سلیقے بھی کہاں

دل لہو ہوتا ہے یارو بات یہ آساں نہیں

لحظہ لحظہ روتے گزری اور روئے بھی کہاں


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment