رہِ بشر میں وہی تو ببول رکھتے ہیں
جو اپنے ذہن میں فکرِ فضول رکھتے ہیں
جو لوگ ہوتے ہیں موسم صفت زمانے میں
کہاں وہ زیست میں پاسِ اصول رکھتے ہیں
بلندی بخشتے ہیں رتبۂ نشیمن کو
کھلا کے مالی جو پت جھڑ میں پھول رکھتے ہیں
لکھا ہے جو بھی مقدر میں بس وہی ہو گا
یہ کہہ دو ان سے جو خود کو ملول رکھتے ہیں
نہ ہو گی قدر وہاں اپنی دوستو! پھر بھی
ہم ان کی بزم میں قصدِ شمول رکھتے ہیں
ہمیں ہے گرمیٔ محشر کا کوئی خوف نہیں
حریمِ دل میں ہم عشقِ رسولﷺ رکھتے ہیں
غرور کرتے نہیں ہیں کبھی وہ اہلِ قلم
جو مثلِ بحر وفا فن میں طول رکھتے ہیں
وفا صدیقی
No comments:
Post a Comment