Wednesday, 17 November 2021

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں

 سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں

آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں

وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے

ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

یوں بھی لگتا ہے تِری یاد بہت ہے لیکن

زخم یہ دل کے تِری یاد سے بھرتے کب ہیں

لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے

جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں

یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیم

ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں


فاروق شمیم

No comments:

Post a Comment