اِسے دیکھتے ہیں اُسے دیکھتے ہیں
سبھی ہیں پریشاں جسے دیکھتے ہیں
تجھے دیکھتے جو نہیں اپنے دل میں
وہ بندے فلک پر کسے دیکھتے ہیں
نہیں کرتے ضائع بصیرت سبھی پر
جسے دیکھنا ہو، اسے دیکھتے ہیں
تُو جانے اگر چوم لے میری آنکھیں
تِرے عکس میں ہم کسے دیکھتے ہیں
جو بچھڑے ہیں ہم سے ملیں گے کبھی تو
یہ خوابوں میں ہم وسوسے دیکھتے ہیں
کبھی موسیٰ فرعون کے گھر میں دیکھے
کبھی کعبے میں بُت بسے دیکھتے ہیں
دکھاتے ہیں عشوے جو محفل میں ہم کو
سرِِ راہ وہ پیار سے دیکھتے ہیں
توصیف زیدی
No comments:
Post a Comment