Wednesday, 2 June 2021

وہ بھلے ستمگر ہوں تلخ کیوں رکھوں لہجہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا

 وہ بھلے ستمگر ہوں، تلخ کیوں رکھوں لہجہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا

سوچنا بھی ایسا کیا، توبہ ہے مِری توبہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا

سلسلے عقیدت کے، کم کبھی نہِیں ہوں گے، چاہے آزماؤ بھی

پیار فاختاؤں پر کِس لیے رکھوں پہرہ، مجھ سے تو نہِیں ہو گا

زخم جو بھی بخشیں گے ان میں پھول بانٹوں گا یہ مِرا ارادہ ہے

اور یاروں کے آگے میں کروں کوئی قصہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا

بات ہے سرِشتوں کی، شوق ہے بہت لیکن، میں کروں ادا کاری؟

رول بھی بہت اچھا، چہرے پر مگر چہرہ، مجھ سے تو نہِیں ہو گا

عمر تو گناہوں کے بِیچ میں گزاری ہے، پارسائی کیا مطلب؟

چاہ کر بھی یارو اب کوئی بھی عمل اچھا مجھ سے تو نہِیں ہو گا

اب سسکتے لوگوں کا درد بانٹا ہو گا، وقت کا تقاضہ ہے

دروغ کی مِلاوٹ سے دل کا جُھوٹا بہلاوہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا

جاگتے میں کاٹی رات واہموں کی یلغاریں دل پہ راج رکھتی تھیں

من کو دوں رشید حسرت پِھر سکون کا دھوکہ مجھ سے تو نہِیں ہو گا


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment