Saturday, 10 January 2026

ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں

 ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں

پھر زباں اپنی کھولتا ہوں میں

کیوں نہ میٹھا ہو نیم نفرت کا

پیار کا رس جو گھولتا ہوں میں

دوش دینے سے پہلے اوروں کو

عیب اپنا ٹٹولتا ہوں میں

سامنا آندھیوں کا کیا کرتا

جب ہواؤں سے ڈولتا ہوں میں

مارنا ڈنک میری فطرت ہے

اس لیے کچھ بھی بولتا ہوں میں


ناظم قمر

No comments:

Post a Comment