اس کا انتظار کیا آخری شمار تک
ہم نے جس کو کھو دیا آخری شمار تک
چاند اس مقام سے اک قدم نہ ہٹ سکا
میں ہی ڈوبتا گیا آخری شمار تک
چاندنی میں ایک سانس لی تھی اتنا یاد ہے
اور پھر اندھیرا تھا آخری شمار تک
ہر بہانے میرے پاس عید آئی بارہا
فاصلہ بنا رہا آخری شمار تک
آفریں ہے اے خدا! اک حسین کے لیے
کربلا ہی کربلا آخری شمار تک
رشید امکان
No comments:
Post a Comment