Saturday, 10 January 2026

کربلا ہی کربلا آخری شمار تک

 اس کا انتظار کیا آخری شمار تک

ہم نے جس کو کھو دیا آخری شمار تک

چاند اس مقام سے اک قدم نہ ہٹ سکا

میں ہی ڈوبتا گیا آخری شمار تک

چاندنی میں ایک سانس لی تھی اتنا یاد ہے

اور پھر اندھیرا تھا آخری شمار تک

ہر بہانے میرے پاس عید آئی بارہا

فاصلہ بنا رہا آخری شمار تک

آفریں ہے اے خدا! اک حسین کے لیے

کربلا ہی کربلا آخری شمار تک


رشید امکان

No comments:

Post a Comment