دل کا لہو ذرا سا فضا میں اچھال دو
فنکار ہو تو فن کو اچھوتا خیال دو
ماضی کو بھول جاؤ، ثبوتِ کمال دو
یا خود ہی سوچو اور وجوہِ زوال دو
ہو جستجو تو منزلیں ہر ہر قدم پہ ہیں
دل سے خیالِ ختم سفر ہی نکال دو
ملتا ہے کچھ صِلہ یہ توقع فضول ہے
نیکی جہاں کرو، وہیں دریا میں ڈال دو
ذرہ ہوں آفتاب میں بن جاؤں گا اگر
سورج اک ہو سکے تو ادھر بھی اچھال دو
دیکھو کہ رقص کرتی ہے کس طرح کائنات
جب میں غزل پڑھوں تو ذرا تم بھی تال دو
اقبال فرید میسوری
اقبال احمد خان
No comments:
Post a Comment