Saturday, 10 January 2026

دل کا لہو ذرا سا فضا میں اچھال دو

 دل کا لہو ذرا سا فضا میں اچھال دو

فنکار ہو تو فن کو اچھوتا خیال دو

ماضی کو بھول جاؤ، ثبوتِ کمال دو

یا خود ہی سوچو اور وجوہِ زوال دو

ہو جستجو تو منزلیں ہر ہر قدم پہ ہیں

دل سے خیالِ ختم سفر ہی نکال دو

ملتا ہے کچھ صِلہ یہ توقع فضول ہے

نیکی جہاں کرو، وہیں دریا میں ڈال دو

ذرہ ہوں آفتاب میں بن جاؤں گا اگر

سورج اک ہو سکے تو ادھر بھی اچھال دو

دیکھو کہ رقص کرتی ہے کس طرح کائنات

جب میں غزل پڑھوں تو ذرا تم بھی تال دو


اقبال فرید میسوری

اقبال احمد خان

No comments:

Post a Comment