Saturday, 20 November 2021

موت منظور ہے زندگی کے لیے

 موت منظور ہے زندگی کے لیے

جان حاضر ہے تیری خوشی کے لیے

گلشنِ زیست سے وادئ موت تک

ہیں کئی امتحاں آدمی کے لیے

جس نے مجھ کو غموں کے حوالے کیا

کر رہی ہوں دعائیں اسی کے لیے

زندگی سے جُدا ہونا آساں نہیں

حوصلہ چاہیۓ خودکشی کے لیے


شیاما سنگھ صبا

No comments:

Post a Comment