حکایت وصل کی سب کو سنانا بند کر دیں
تو پھر یادیں بھی یوں پنکھا ہلانا بند کر دیں
ذرا چھٹ جائے اس کے خواب گہہ کی یہ اداسی
مِری آنکھیں بھی پھر پلکیں سجانا بند کر دیں
انا کا بوجھ اٹھا کر جھک پڑے تہذیب کا سر
تو پھر مقتل میں اپنا سر کٹانا بند کر دیں
نہیں چلتا ہے زور اس کا کسی سرکش ہوا پر
تو کیا ہم بھی چراغوں کو جلانا بند کر دیں
مصیبت میں یہی آنسو غنیمت ہیں ہمارے
بلا سے وہ زمانے کو رلانا بند کر دیں
عدو کی صف میں رکھتا ہے ہمیں وہ اس لیے بھی
عدو اس کے نہ اپنا آب و دانہ بند کر دیں
کلیم ہم نے بھی بہت مشکل سے آدھی رات کاٹی
بلائیں نیند میں اب تو ڈرانا بند کر دیں
کلیم حاذق
No comments:
Post a Comment