اونہہ
میری ماں کا
سب سے لاڈلا بچہ
میرا چھوٹا بھائی
ماں کے پاؤں دباتا تھا وہ
اک دیوار کو پکڑے پکڑے
گندے پیروں
پیٹھ پہ بھی چڑھ جاتا تھا وہ
دوڑ دوڑ کے
دکھلانے کو
ان کے سارے کام وہ کرتا
کترن لے کر
ریٖل بٹن کی میچنگ
سبزی دہی وغیرہ
گھڑے صراحی کولر بھرتا
لیکن مجھ پر
کڑی نظر
ایسے رکھتا تھا
جیسے میں اس کی نوکر ہوں
ماں کی نظر بچا کر اکثر
کتنے کام تو مجھ سے ہی کروا لیتا تھا
منع کروں تو دھمکاتا تھا
کبھی مجھے سوتیلی کہتا
کبھی چڑاتا
جب میں سہیلی کے گھر جاتی
وقت سے پہلے لینے آتا
ایک روز تو اسی بات پہ
ماں نے اس کی ڈانٹ لگائی
اس شب مجھ کو مارے خوشی کے
نیند نہ آئی
بھری دوپہر
مجھ سے ہنڈ کلیا پکوا کر
ایک پڑوسی بن کر آتا
سب کھا جاتا
بعد میں مجھے
دھوئیں میں اٹے
سارے برتن
دھونا پڑتے
اس کی وجہ سے آٹھ آٹھ آنسو
رونا پڑتے
ان باتوں سے جی میں نفرت اور پنپتی
ماں بھی اس کو
مجھ سے زیادہ حلوہ دیتیں
مجھ کو ایک پراٹھا
اس کے حصہ میں دو
بالائی بھی مجھ سے زیادہ
ماں کو میرا کوئی کام نہیں دکھتا تھا
آنکھوں پر ظالم کی چاہت کا پردا تھا
دھیرے دھیرے
میرا ننھا دل جل جل کر راکھ ہو گیا
خیر شکر ہے
بیس برس میں سارا قصہ پاک ہو گیا
اب جب میکے جاتی ہوں
تو وہی ایک نمبر کا پاجی
مجھ کو لینے آ جاتا ہے
اپنے کئے دھرے پر شاید
پچھتاتا ہے
اپنا حلوہ اور بالائی دے دیتا ہے
چالو لڑکا
اچھا بن کے
دکھلاتا ہے
ماں بھی ساتھ نہیں
جو اس کی چال سمجھ لیں
اب تو میرا حال سمجھ لیں
بڑا چلا ہے ابا بننے
اسنیٰ بدر
No comments:
Post a Comment