Monday, 11 April 2022

میری ماں کا سب سے لاڈلا بچہ میرا چھوٹا بھائی

 اونہہ


میری ماں کا

سب سے لاڈلا بچہ

میرا چھوٹا بھائی

ماں کے پاؤں دباتا تھا وہ

اک دیوار کو پکڑے پکڑے

گندے پیروں

پیٹھ پہ بھی چڑھ جاتا تھا وہ

دوڑ دوڑ کے

دکھلانے کو

ان کے سارے کام وہ کرتا

کترن لے کر

ریٖل بٹن کی میچنگ

سبزی دہی وغیرہ

گھڑے صراحی کولر بھرتا

لیکن مجھ پر

کڑی نظر

ایسے رکھتا تھا

جیسے میں اس کی نوکر ہوں

ماں کی نظر بچا کر اکثر

کتنے کام تو مجھ سے ہی کروا لیتا تھا

منع کروں تو دھمکاتا تھا

کبھی مجھے سوتیلی کہتا

کبھی چڑاتا

جب میں سہیلی کے گھر جاتی

وقت سے پہلے لینے آتا

ایک روز تو اسی بات پہ

ماں نے اس کی ڈانٹ لگائی

اس شب مجھ کو مارے خوشی کے 

نیند نہ آئی

بھری دوپہر

مجھ سے ہنڈ کلیا پکوا کر

ایک پڑوسی بن کر آتا

سب کھا جاتا

بعد میں مجھے

دھوئیں میں اٹے

سارے برتن

دھونا پڑتے

اس کی وجہ سے آٹھ آٹھ آنسو

رونا پڑتے

ان باتوں سے جی میں نفرت اور پنپتی

ماں بھی اس کو

مجھ سے زیادہ حلوہ دیتیں

مجھ کو ایک پراٹھا

اس کے حصہ میں دو

بالائی بھی مجھ سے زیادہ

ماں کو میرا کوئی کام نہیں دکھتا تھا

آنکھوں پر ظالم کی چاہت کا پردا تھا

دھیرے دھیرے

میرا ننھا دل جل جل کر راکھ ہو گیا

خیر شکر ہے

بیس برس میں سارا قصہ پاک ہو گیا

اب جب میکے جاتی ہوں

تو وہی ایک نمبر کا پاجی

مجھ کو لینے آ جاتا ہے

اپنے کئے دھرے پر شاید

پچھتاتا ہے

اپنا حلوہ اور بالائی دے دیتا ہے

چالو لڑکا

اچھا بن کے

دکھلاتا ہے

ماں بھی ساتھ نہیں 

جو اس کی چال سمجھ لیں

اب تو میرا حال سمجھ لیں

بڑا چلا ہے ابا بننے


اسنیٰ بدر

No comments:

Post a Comment