Sunday, 10 April 2022

قریب یوں ہی نہیں آ کے بولتی ہے مرے

 قریب یوں ہی نہیں آ کے بولتی ہے مِرے

یہ زندگی تو بڑے راز کھولتی ہے مرے

اگر ہوا کو ضرورت نہیں اجالے کی

چراغ کس لیے آ کر ٹٹولتی ہے مرے

مجھے بچا لیا ہے تیری گرم سانسوں نے

وگرنہ سرد ہوا زخم رولتی ہے مرے

میں کیا کروں گا کسی کا سہارہ بھی لے کر

اگر زمین ہی پیروں میں ڈولتی ہے مرے

میں آسماں سے کئی بار ہو کے آیا ہوں

ہوا تو بال و ہنر ویسے تولتی ہے

بھلا کہاں کا تھا میں اس قدر بھی خواب پسند

یہ کون نیند کو بستر میں گھولتی ہے مرے


احسان گھمن

No comments:

Post a Comment