Saturday, 8 January 2022

وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین


بہت سے سانحے گزرے تو پھر جا کر

ہوا تخلیق ہو پائی، زمیں چلنے لگی

اور ساز فطرت نے خدا کی حمد گائی

پرندوں نے خود اپنی مدبھری آواز میں

قدرت کی ساری نعمتوں کا شکر کرنا تھا سو کر ڈالا

ندی نے نم ہواؤں کو سمیٹا

اور خشکی کی طرف بھیجا

یہ ساری رنگتیں اور نعمتیں تخلیق کردہ ہیں

انہیں تخلیق کرنے والا کتنا خوبصورت ہے

کہ جس نے عشق کو پیدا کیا اور پھر

فلک سے اس زمیں تک کا سفر دے کر

اسے محبوب کے دل پر اتارا

مقدس آیتیں اتریں جنہوں نے

زنگ آلودہ دلوں کو صاف کر ڈالا

نہیں معلوم کتنے سانحے گزرے 

مگر ان سانحوں کے بعد

اک ایسی روشنی پھوٹی

عرب سے جو نکل کر

وہ عجم کے بے بہا لوگوں کو اپنا فیض دے کر

اب تلک روشن ہے اور روشن رہے گی

ہمیں اس روشنی کا فیض دے مولا

مقدس آیتیں دل پر اتار

ہمیں اس ساز فطرت میں مگن رہنا ہے

تجھ کو یاد رکھنا ہے


زاہد خان

No comments:

Post a Comment