Wednesday, 3 August 2022

اپنی وسعت سے کہیں دور سمٹ جاتا ہوں

 اپنی وسعت سے کہیں دُور سمٹ جاتا ہوں

میں تِری راہ کا پتھر ہوں تو ہٹ جاتا ہوں

بیٹھا رہتا ہوں میں سہما ہوا گم صم اور پھر

اپنی تنہائی سے خود آپ لپٹ جاتا ہوں

عجب آہستہ روی پر ہے مِرا پائے رواں

تیز چلتا ہوں تو رفتار سے گھٹ جاتا ہوں

پھیلتا ہے رخِ افلاک پہ جب غازۂ شام

پارہ پارہ تِرے اطراف میں بٹ جاتا ہوں

ابر پارہ ہوں تو رہتا ہوں یونہی سایہ فگن

صورتِ گرد اگر ہوں تو میں چَھٹ جاتا ہوں

صرف بے وجہ اداسی ہے، نہیں مَصرفِ خاص

یونہی بے کار میں آیا تھا، پلٹ جاتا ہوں

نیند کی شیلف سے خوابوں کی اٹھا کر میں بیاض

پڑھتا کب ہوں؟ فقط اوراق الٹ جاتا ہوں

میں نہتّا کسی تنہا سے نہیں لڑتا کبھی

لاؤ٭ لشکر ہو مقابل میں تو ڈٹ جاتا ہوں

مشکل ایسا ہوں کہ تعمیر نہیں ہوتا سروش

سہل اتنا ہوں کہ اک چوٹ سے کٹ جاتا ہوں


اجمل سروش

٭لاؤ لشکر: غلط العام لفظ ہے اصل میں یہ لاد لشکر ہے

No comments:

Post a Comment