بزمِ جہاں میں پیار کی صُورت بدل گئی
جو ان کو دل سے تھی وہ محبت بدل گئی
پہلے تو چارہ گر کو میں کرتا رہا تلاش
جب درد بڑھ گیا،۔ مِری نیت بدل گئی
نظروں کا ہے قصور یا بدلے ہوئے ہیں وہ
یا دل کے آئینے کی ہی مُورت بدل گئی
اب آگے دیکھیں رنگِ جنوں لائے کیا مِرا
دو چار دن میں عقل کی صُورت بدل گئی
پھِرتی ہے جنگلوں میں لیے اس کی جستجو
شہرِ وفا کی جب سے حکومت بدل گئی
پُھوٹی ہیں اب تو نخلِ تمنّا کی کونپلیں
ہوتا ہے یہ گُمان کہ قسمت بدل گئی
وہ خود بدل گئے ہیں انہیں کس طرح کہوں
الزام یہ ہے؛ میری عقیدت بدل گئی
پہلا سا اضطراب نہ وہ پیچ و تاب ہے
محسوس ہو رہا ہے طبیعت بدل گئی
مجذوب جب سے شہر نگاراں میں آ بسے
کہتے ہیں لوگ؛ ان کی سکونت بدل گئی
مجذوب چشتی
No comments:
Post a Comment