Wednesday, 17 November 2021

اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا

 اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا

دوسرا کوئی بچھڑنے کا بہانہ بھی نہ تھا

کاغذی ناؤ میں سامان مِرا لاکھوں کا

اور دریا کے سوا کوئی ٹھکانا بھی نہ تھا

کاٹ کر پیڑ مکاں اپنا بنانا تھا، مگر

ان پرندوں کے مکانوں کو گرانا بھی نہ تھا

انقلاب آئے گا سنتے ہیں ضرور آئے گا

تھک گئی آنکھ مگر اس کو سلانا بھی نہ تھا

روز اول سے ہی تم باندھ کے رکھتے سامان

اب یہاں دل نہیں لگتا تو لگانا بھی نہ تھا

اپنے شعروں سے جری کی ہے ترے آنچل کی

اس سے نایاب مِرے پاس خزانہ بھی نہ تھا


مصور فیروزپوری

No comments:

Post a Comment