Wednesday, 9 December 2020

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

 ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

نہ سنا تم نے ماجرا دل کا

اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں

ہے نہیں کوئی آشنا دل کا

عشق میں ایسی کھینچی رسوائی

ہو گیا شور جا بجا دل کا

اس قدر بے حواس رہتا ہے

جیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا

ایک بوسے پہ بیچتے تھے ہم

تو نے سودا نہ کچھ کیا دل کا

تیرے ملنے سے فائدہ کیا ہے

نہ ہو حاصل جو مدعا دل کا

کیوں دیا آصف اس ستم گر کو

آپ تو مدعی ہوا دل کا


آصف الدولہ

No comments:

Post a Comment