اذیتوں کی نئی داستان چھوڑ گیا
وہ مرے واسطے پھر امتحان چھوڑ گیا
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بچھڑتے ہوئے
وہ میرے دل پہ نیا اِک نشان چھوڑ گیا
ہر ایک چہرے پہ آنے لگا نظر وہ ہی
ہر ایک سمت وہ اپنا گمان چھوڑ گیا
جو دھڑکنوں میں سمایا تھا زندگی کی طرح
وہ میرے دل میں بس اپنا دھیان چھوڑ گیا
وہ جس کے نام پہ لکھا تھا میں نے دیباچہ
وہ داستاں ہی مری درمیان چھوڑ گیا
دراڑیں یادوں کی رشتوں کی سر پہ گرتی چھت
کوئی نہ بس سکے ایسا مکان چھوڑ گیا
تسلی جب نہ ملی اس کو میرے زخموں سے
وہ مردہ جسم پہ اپنی کمان چھوڑ گیا
زبان میری کیوں یہ زہر سا اگلنے لگی
کیا میرے منہ میں وہ اپنی زبان چھوڑ گیا
جدا تو ہوتے تھے اکثر پر اب کی بار جبیں
وہ ایسے بچھڑا کہ جیسے جہان چھوڑ گیا
مہ جبین عثمان
No comments:
Post a Comment