Wednesday, 9 December 2020

سنا ہے لوگ ان پر مر رہے ہیں

 سنا ہے لوگ ان پر مر رہے ہیں

جو خود جینے سے اب تک ڈر رہے ہیں

ہے دعویٰ پاکئ داماں کا ان کو

ہزاروں قتل جن کے سر رہے ہیں

مراسم اب کہاں وہ پہلے جیسے

گزارا ہو رہا ہے، کر رہے ہیں

تعلق رکھ رہے ہیں واجبی سا

ہمیں کیا کیا گماں جن پر رہے ہیں

محبت میں ہمیشہ امتحاں کے

نتائج بد سے بھی بد تر رہے ہیں

کبھی سرزد ہوا تھا جرمِ الفت

وہی تاوان اب تک بھر رہے ہیں

ہوئے ناکام اکثر وہ جہاں میں

سبق جن کو سبھی ازبر رہے ہیں


بشریٰ خلیل

No comments:

Post a Comment