شام آئی کہ مِری جان نشانے آئی
فوج یادوں کی قلعہ چین کا ڈھانے آئی
ہم تو وہ مرمرِیں پاؤں بھی کبھی چُھو نہ سکے
سر کو سہلانے صبا اس کے سرہانے آئی
وائے قسمت کہ اسے ہوش بھی آیا اس وقت
زندگی جب مِری رخصت کے دہانے آئی
اس نے جب کر دیا صحرا مِرا شادابِ چمن
جام 🍷 کی لال پری جشن منانے آئی
اس کو جانا تھا گیا اور مجھے آتے آتے
کب ہٹی آنکھ اور کب سانس ٹھکانے آئی
فائدہ کچھ نہیں رونے کا، ہوا کھیل تمام
ساز کیا عشقِ بلا آ کے بھی، جانے آئی
ساز دہلوی
No comments:
Post a Comment