Wednesday, 9 December 2020

تیری محفل سے کچھ اس حال میں ہم آتے ہیں

تیری محفل سے کچھ اس حال میں ہم آتے ہیں

جیسے مقتل سے شہیدوں کے علم 🏴 آتے ہیں

تیری نظروں میں تو کچھ سحر ہے ظالم، ورنہ

اپنے قابو میں بھی مشکل ہی سے ہم آتے ہیں

سن کے رہ جاتے ہیں ہم دیکھ کے جب لوگ تمہیں

کہتے ہیں؛ دیکھیے! وہ اہلِ کرم آتے ہیں

ہم بھی بیٹھے ہیں خفا جان سے اے جرأتِ شوق

ہاتھ میں وہ بھی لیے تیغِ🗡 دو دَم آتے ہیں

گھر میرا کعبہ ہے یا مجلسِ ماتم میکش

ناز آتے ہیں نہ ان کو، نہ ستم آتے ہیں


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment