تیری محفل سے کچھ اس حال میں ہم آتے ہیں
جیسے مقتل سے شہیدوں کے علم 🏴 آتے ہیں
تیری نظروں میں تو کچھ سحر ہے ظالم، ورنہ
اپنے قابو میں بھی مشکل ہی سے ہم آتے ہیں
سن کے رہ جاتے ہیں ہم دیکھ کے جب لوگ تمہیں
کہتے ہیں؛ دیکھیے! وہ اہلِ کرم آتے ہیں
ہم بھی بیٹھے ہیں خفا جان سے اے جرأتِ شوق
ہاتھ میں وہ بھی لیے تیغِ🗡 دو دَم آتے ہیں
گھر میرا کعبہ ہے یا مجلسِ ماتم میکش
ناز آتے ہیں نہ ان کو، نہ ستم آتے ہیں
میکش اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment