Monday, 12 April 2021

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

 جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے

تیرے کُوچے میں نقشِ پا کی طرح

ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے

شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم

ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے

ایک دن میں نے یار سے یہ کہا

اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے

ہنس کے بولا کہ؛ سن لے اے آصف

یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے


آصف الدولہ

No comments:

Post a Comment