اک پری حور اپسرا تم ہو
تم ہی کہہ دو کی کیا بلا تم ہو
زندگی کا میری مزا تم ہو
عصمت و آبرو حیا تم ہو
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
ساری آیت کا ترجمہ تم ہو
شعر آئیں نہ کیوں وحی بن کر
جب خیالوں میں رو نما تم ہو
مت اٹھو تم ابھی سرہانے سے
رنج و غم کی میرے دوا تم ہو
اِک خبر تھی تمہارے آنے کی
یعنی اسبابِ رت جگا تم ہو
ابتداء کی خبر نہیں مجھ کو
عشق کہتا ہے انتہا تم ہو
مجھ کو ایماں نے روک رکھا ہے
ورنہ کہہ دیتا کہ خدا تم ہو
پتھروں سے لگاؤ مت رکھنا
سنتے آئے ہیں آئینہ تم ہو
مجھ کو فرصت کہاں ہے ملنے کی
کیوں کہوں میں کی بے وفا تم ہو
کتنا مشکل ہے یہ بتانے میں
عشق میرا میری وفا تم ہو
شعر کہتے ہو دل کے جیسا تم
ایک پاگل تھا دوسرا تم ہو
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment