Monday, 12 April 2021

اک پری حور اپسرا تم ہو

 اک پری حور اپسرا تم ہو

تم ہی کہہ دو کی کیا بلا تم ہو

زندگی کا میری مزا تم ہو 

عصمت و آبرو حیا تم ہو 

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا 

ساری آیت کا ترجمہ تم ہو

شعر آئیں نہ کیوں وحی بن کر 

جب خیالوں میں رو نما تم ہو 

مت اٹھو تم ابھی سرہانے سے 

رنج و غم کی میرے دوا تم ہو

اِک خبر تھی تمہارے آنے کی 

یعنی اسبابِ رت جگا تم ہو

ابتداء کی خبر نہیں مجھ کو 

عشق کہتا ہے انتہا تم ہو 

مجھ کو ایماں نے روک رکھا ہے 

ورنہ کہہ دیتا کہ خدا تم ہو

پتھروں سے لگاؤ مت رکھنا 

سنتے آئے ہیں آئینہ تم ہو 

مجھ کو فرصت کہاں ہے ملنے کی 

کیوں کہوں میں کی بے وفا تم ہو

کتنا مشکل ہے یہ بتانے میں  

عشق میرا میری وفا تم ہو

شعر کہتے ہو دل کے جیسا تم 

ایک پاگل تھا دوسرا تم ہو


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment