Friday, 2 July 2021

الجھتا جاتا ہے تانا بانا کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

 الجھتا جاتا ہے تانا بانا، کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے

تجھے ہی دیکھے تِرا دِوانہ، کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

نئی محبت کے ہجر لمحے مِری جوانی نگل رہے ہیں

لگا ہوا ہے بس آنا جانا، کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

میں خاک سے ہوں، میں چاک پر ہوں، میں کُن سے آگے نکل گیا ہوں

پڑے گا پھر سے مجھے گھمانا، کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

وہ بات کرتا تو باتوں باتوں میں بھول جاتا تھا بات کرنی

سنا تا جب بھی مرا فسانہ، کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

کبھی زمیں سے کبھی زماں سے زعیم جانے کہاں کہاں سے

تلاش کرتے ہیں آب و دانہ، کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے


زعیم رشید

No comments:

Post a Comment