Sunday, 4 July 2021

میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میں کبھی کینوس پہ

 میں تو اپنی منزل آپ ہوں


میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میں

کبھی کینوس پہ سجی ہوں میں

قوس و قزاح ہوں حروف کی

الفاظ کی اک لڑی ہوں میں

مجھےخود بھی اپنا پتا نہیں

میں کہاں نہیں

اور کہاں ہوں میں

اب تلاش کرنے سے فائدہ

میں جو مل بھی جاؤں تو کیا بھلا

پھر بھی اک خلش سی ہے

تیری جستجو صبح و شام ہے

یہ جو خواہشیں ہیں فضول سی

اک عمر سے میرے ساتھ ہے

جو میں دامن ان سے چھڑا سکوں

تو سکوں تصوف میں پا سکو

مگر شفاف پردے تصوّف کے ہیں

مجھے کس طرح سے چھپائیں گے

مجھے قید کرنا محال ہے

میں مگن ہوں اپنی ہی ذات میں

کون و مکاں سے بے خبر  

مجھے آرزو تھی کبھی ملے

کوئی رازداں کوئی ہمنوا 

مگر کبھی کوئی ایسا ملا نہیں

جہاں رو سکو کبھی رکھ کے سر

جو ملاوه اپنا ہی کندھا ہے

جہاں روتی ہوں میں جُھکا کے سر

میں مہیب رات کا پہر ہوں 

نہیں سحر میرے نصیب میں

یہ سحر تیری ہے تو رکھ اسے 

میں تو سحر سے بہت دور ہوں

میں نہ ہاتھ اب کبھی آؤں گی

مجھے ڈھونڈنا بھی فضول ہے

 یہ جو راستے ہیں چہار سُو

لے جائیں گے مجھے کُو بہ کُو

بہت منزلیں ہیں یہاں وہاں

میری منزل ان میں کوئی نہیں

ہاں میری منزل نہیں کوئی 

میں تو اپنی منزل آپ ہوں


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment