وہیں باتیں پرانی کر رہا ہوں
میں پتھر پانی پانی کر رہا ہوں
چراغِ آخرِ شب ہوں مگر میں
ہواسے چھیڑ خانی کر رہا ہوں
وہ خنجر کی طرح دل میں لگی ہے
میں جس کو آنی جانی کر رہا ہوں
زمیں تب سے دہائی دے رہی ہے
میں جب سے حکمرانی کر رہا ہوں
اسی اک شام کے صدقے ابھی تک
کئی شامیں سہانی کر رہا ہوں
یہ جمع و خرچ میں سارے کا سارا
ابھی تک تو زبانی کر رہا ہوں
میں خود پر مہرباں ہوتا ہوں، جیسے
کسی پر مہربانی کر رہا ہوں
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment