چاہے گلدان میں سب زخم پرانے رکھو
تم محبت کی جگہ عشق سرہانے رکھو
تم نے میرے لیے تنہائی کو تجویز کیا
رونے والوں کے لیے اور بہانے رکھو
جو ہرن چوکڑی بھرتے ہیں انہیں داد تو دو
کیا ضروری ہے کہ ہر پشت پہ طعنے رکھو
ہم سے کہتی ہیں کمانیں کہ ابھی وقت نہیں
تیر سے دور، بہت دور نشانے رکھو
جسم ایسے نہ چراؤ کہ کوئی جرم لگے
یوں کھلے سر نہ جواہر کے خزانے رکھو
جتنے ڈاکو ہیں تحفظ ہو فراہم ان کو
اور کمزور پہ بندوق کو تانے رکھو
یہ ہوا کہتی ہے یہ ہم سے فضا کہتی ہے
کرفیو آنکھ سہے، نیند کو تھانے رکھو
ہم مضافات کی مسجد میں کھڑے کہتے ہیں
لوگ معصوم سہی، شہر سیانے رکھو
گھاس تک رنگ بدل لیتی ہے اس میں عامر
یہ جدائی ہے میاں، ہوش ٹھکانے رکھو
عامر سہیل
No comments:
Post a Comment