Saturday, 12 December 2020

تم محبت کی جگہ عشق سرہانے رکھو

 چاہے گلدان میں سب زخم پرانے رکھو

تم محبت کی جگہ عشق سرہانے رکھو

تم نے میرے لیے تنہائی کو تجویز کیا

رونے والوں کے لیے اور بہانے رکھو

جو ہرن چوکڑی بھرتے ہیں انہیں داد تو دو

کیا ضروری ہے کہ ہر پشت پہ طعنے رکھو

ہم سے کہتی ہیں کمانیں کہ ابھی وقت نہیں

تیر سے دور، بہت دور نشانے رکھو

جسم ایسے نہ چراؤ کہ کوئی جرم لگے

یوں کھلے سر نہ جواہر کے خزانے رکھو

جتنے ڈاکو ہیں تحفظ ہو فراہم ان کو

اور کمزور پہ بندوق کو تانے رکھو

یہ ہوا کہتی ہے یہ ہم سے فضا کہتی ہے

کرفیو آنکھ سہے، نیند کو تھانے رکھو

ہم مضافات کی مسجد میں کھڑے کہتے ہیں

لوگ معصوم سہی، شہر سیانے رکھو

گھاس تک رنگ بدل لیتی ہے اس میں عامر

یہ جدائی ہے میاں، ہوش ٹھکانے رکھو​


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment