Saturday, 12 December 2020

وہ جس کا ساتھ نبھانے کا حوصلہ نہ ہوا

 وہ جس کا ساتھ نبھانے کا حوصلہ نہ ہوا

بچھڑ گیا تو بھلانے کا حوصلہ نہ ہوا

اِدھر اُدھر کے سنائے ہزار افسانے

دلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا

یہ اور بات کہ با حوصلہ ہوں میں پھر بھی

نئے چراغ جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

خلیج کتنے زمانوں کی کر گیا پیدا

وہ اک قدم کہ اٹھانے کا حوصلہ نہ ہوا

کتاب ذہن کا کوئی ورق بھی سادہ نہیں

لکھے حروف مٹانے کا حوصلہ نہ ہوا

گزر گئی تھی شب ہجر ہجر میں عظمی

چراغ پھر بھی بجھانے کا حوصلہ نہ ہوا


خالدہ عظمی

No comments:

Post a Comment