Saturday, 12 December 2020

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں

 ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں

سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

خود آفتاب مری راہ کا چراغ بنے

مگر یہ بات مرے چاند کو گوارا نہیں

جو اس میں اتری تو طوفان ہی ملیں گے مجھے

میں جانتی ہوں کہ وہ موج ہے کنارا نہیں

عجب فضا ہے کہ رنگ نمود صبح بھی ہے

سیاہ رات نے بھی پیرہن اتارا نہیں

وجود جس کو کسی معتبر شجر نے دیا

ہوا کی زد میں بھی تنکا وہ بے سہارا نہیں

جلے گا خود بھی سحر تک مجھے بھی لو دے گا

چراغ شام کوئی بخت کا ستارا نہیں


یاسمین حمید

No comments:

Post a Comment