اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم
جہاں تم تھے وہیں پر یہ کہانی روک لیتے ہم
عداوت کے بھی تو اپنے ادب آداب ہوتے ہیں
کسی دشمن کا بھی پھر کیسے پانی روک لیتے ہم
تکلف کیوں کیا سارے کا سارا لکھنے پڑھنے کا
کہیں اس جانے والے کو زبانی روک لیتے ہم
تو پھر یہ دل ہمارا ٹوٹنے سے بچ بچا جاتا
اگر اطراف کی سب کھینچا تانی روک لیتے ہم
خود اپنے ہاتھ پائوں باندھ رکھے ہیں وگرنہ تو
گزرتے وقت کی یہ سرگرانی روک لیتے ہم
خدا نے رزق کی تقسیم اپنے پاس رکھی ہے
کسی کا کس طرح سے دانہ پانی روک لیتے ہم
نئے جھگڑوں کی پھر مسعود یہ بنیاد کیا رکھتے
اگر آپس کی آویزش پرانی روک لیتے ہم
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment