Wednesday, 2 February 2022

اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم

 اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم

جہاں تم تھے وہیں پر یہ کہانی روک لیتے ہم

عداوت کے بھی تو اپنے ادب آداب ہوتے ہیں

کسی دشمن کا بھی پھر کیسے پانی روک لیتے ہم

تکلف کیوں کیا سارے کا سارا لکھنے پڑھنے کا

کہیں اس جانے والے کو زبانی روک لیتے ہم

تو پھر یہ دل ہمارا ٹوٹنے سے بچ بچا جاتا

اگر اطراف کی سب کھینچا تانی روک لیتے ہم

خود اپنے ہاتھ پائوں باندھ رکھے ہیں وگرنہ تو

گزرتے وقت کی یہ سرگرانی روک لیتے ہم

خدا نے رزق کی تقسیم اپنے پاس رکھی ہے

کسی کا کس طرح سے دانہ پانی روک لیتے ہم

نئے جھگڑوں کی پھر مسعود یہ بنیاد کیا رکھتے

اگر آپس کی آویزش پرانی روک لیتے ہم


مسعود احمد اوکاڑوی

No comments:

Post a Comment