آنسو ہیں، آنسوؤں کے ستارے بناؤں گا
دریا کو خشک کر کے کنارے بناؤں گا
چھتری بنے کھڑے ہو مِرے سر پہ دھوپ میں
پیڑو! تمہارے واسطے آرے بناؤں گا
احباب اور سانپ تسلی سے رہ سکیں
میں اپنی آستیں میں پٹارے بناؤں گا
اربابِ اختیار ہوس کے غلام ہیں
ان میں ہوا بھروں گا غبارے بناؤں گا
اترا ہے میرے ساتھ ہی یہ ڈر زمین پر
کیا کیا یہاں میں خوف کے مارے بناؤں گا
سر کر رہا ہوں پھر سے محبت کا سلسلہ
بیلے میں جا کے تخت ہزارے بناؤں گا
اگلے جہاں سے اتنا بھی غافل نہیں ہوں میں
دنیا میں آخرت کے خسارے بناؤں گا
صوت و صدا کا شور بڑا زہر خند ہے
میں بول چال کے بھی اشارے بناؤں گا
بیساکھیاں تو خود بھی مِرے آسرے پہ ہیں
بیساکھیوں کو کیسے سہارے بناؤں گا
جاتے تھے وہ جو شہرِ محبت کو راستے
مسعود پھر میں سارے کے سارے بناؤں گا
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment