Monday, 7 March 2022

کسی سحر کی دعا کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں

 کسی سحر کی دعا کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں

جو رتجگوں کی تھکن سے آنکھیں بجھی ہوئی ہیں

کئی شراروں کے غم اٹھا کر دِیے کی آہیں

تمہارے رستے پہ دھول بن کے پڑی ہوئی ہیں

تُو کہہ رہا ہے تمہارے دل سے اتر چکا ہوں؟

تِری نگاہیں تو میرے رخ پر جمی ہوئی ہیں

دعا کریں کہ ردائے طاقِ فلک اٹھے اب

کئی مناجات کُن کے در پہ رکی ہوئی ہیں

خدا ہی جانے وہ اِک تعلق جو سرسری تھا

اسے نبھانے میں کتنی عمریں لگی ہوئی ہیں

وہ میرے گھر کی اداسیوں پہ خفا ہے لیکن

نظر میں اُس کی اداس شامیں ڈھلی ہوئی ہیں

کہیں تو تیرے مسافروں نے بھی راہ بدلی

کہیں سفر سے یہ منزلیں ہی کٹی ہوئی ہیں

سنا ہے میں نے کبھی بہاروں کا پیشوا تھا

خلیل پلکیں خزاں سے جس کی جھڑی ہوئی ہیں


خلیل حسین بلوچ

No comments:

Post a Comment