کسی سحر کی دعا کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں
جو رتجگوں کی تھکن سے آنکھیں بجھی ہوئی ہیں
کئی شراروں کے غم اٹھا کر دِیے کی آہیں
تمہارے رستے پہ دھول بن کے پڑی ہوئی ہیں
تُو کہہ رہا ہے تمہارے دل سے اتر چکا ہوں؟
تِری نگاہیں تو میرے رخ پر جمی ہوئی ہیں
دعا کریں کہ ردائے طاقِ فلک اٹھے اب
کئی مناجات کُن کے در پہ رکی ہوئی ہیں
خدا ہی جانے وہ اِک تعلق جو سرسری تھا
اسے نبھانے میں کتنی عمریں لگی ہوئی ہیں
وہ میرے گھر کی اداسیوں پہ خفا ہے لیکن
نظر میں اُس کی اداس شامیں ڈھلی ہوئی ہیں
کہیں تو تیرے مسافروں نے بھی راہ بدلی
کہیں سفر سے یہ منزلیں ہی کٹی ہوئی ہیں
سنا ہے میں نے کبھی بہاروں کا پیشوا تھا
خلیل پلکیں خزاں سے جس کی جھڑی ہوئی ہیں
خلیل حسین بلوچ
No comments:
Post a Comment