مفت کی بیگار
روز کاہے کو تیار ہوتا ہوں میں
منتظر کون ہے گھر سے باہر مِرا
اور یہاں کون آئے گا ملنے مجھے
میں جسے زندگی
بر طرف کر چکی اپنی بیگار سے
ایک عرصہ ہوا
پھر بھی تیار ہوتا ہوں ہر روز میں
پہلے دن کی طرح
بے شکن اور کلف زاد کپڑوں کو
آزاد کرتے ہوئے قیدِ صندوق سے
اور صلیبِ بدن پر چڑھاتے ہوئے
اپنے جوتوں کے تسموں کو کستا ہوں میں
جیسے لالچ کا مارا سپاہی کوئی
راہ چلتے مسافر کی مشکیں کسے
کون ہے جو مِری نیم خوابی سے کرتا ہے چُہلیں
کبھی نیند سے چور پلکوں کی محراب پر
انگلیاں پھیر کرصبح دم کہتا ہے
اٹھو بہت سو لیا
اب شتابی سے تیار ہو جاؤ تم
اور میں حسبِ معمول تیاری کرتا ہوں
تیار ہونے کی
یہ جانتے بوجھتے
مجھ کو جانا ہے باہر
نہ کوئی یہاں
آنے والا ہے مری ملاقات کو
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment